بنگلورو،28؍مارچ(ایس او نیوز) ایسے مرحلے میں جبکہ ریاست میں تینوں اہم سیاسی جماعتیں کانگریس ، جے ڈی ایس اور بی جے پی لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں کے لئے کمر کس رہے ہیں، امیدوار میدان میں اتر چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کے خدشات کے عین مطابق آج محکمۂ انکم ٹیکس نے جے ڈی ایس کے بعض لیڈروں بشمول ریاستی وزیر سی این پٹ راجو کے مکان پر چھاپہ مارا۔ ان کے علاوہ وزیر برائے تعمیرات عامہ ایچ ڈی ریونا کے اقرباء اور رکن کونسل بی ایم فاروق کے ٹھکانوں پر بھی انکم ٹیکس کے چھاپوں کی اطلاع ملی ہے۔
وزیراعلیٰ کمار سوامی نے کل ہی دعویٰ کیاتھاکہ دہلی سے 300 سے زائد انکم ٹیکس افسر بنگلور پہنچے ہوئے ہیں ان کا نشانہ جے ڈی ایس کے وزراء اور قائدین ہیں ۔ اس خدشے کے عین مطابق آج صبح سویرے ، بنگلور ، منڈیا، ہاسن، میسور، چکمگلور، شیموگہ ، کنکاپورہ اور دیگر 15مقاموں پر محکمۂ انکم ٹیکس نے چھاپے مارے۔ شہر کے جئے نگر ساؤتھ اینڈ سرکل میں شہر کے معروف تاجر صدیق سیٹھ کے گھر پر بھی انکم ٹیکس حکام نے چھاپہ مارا، ساتھ ہی ایچ ایس آر لے آؤٹ، جے نگر، بسونگڈی اور دیگر مقامات پر بھی چھاپے مارے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ صدیق سیٹھ کا شمار وزیراعلیٰ کمار سوامی کے اقرباء میں کیاجاتاہے ۔اس کے ساتھ ہی منڈیا لوک سبھا انتخابات میں جے ڈی ایس کے لئے کلیدی رول ادا کرنے والے منڈیا ضلع کے انچارج وزیر سی ایس پٹ راجو اور ان کے بڑے بھائی کے گھر اور دفتر پر چھاپے مارکر انکم ٹیکس حکام نے دستاویزات ضبط کرلئے ہیں۔ منڈیا کے پانڈو پورہ تعلق کے چن کرلی دیہات میں سی ایس پٹ راجو کے آبائی گھر پر انکم ٹیکس حکام نے تلاشی مہم چلائی۔انکم ٹیکس کے چھاپوں کے دوران حفاظتی انتظامات کے لئے مقامی پولیس کی مدد نہیں لی گئی بلکہ سی آر پی ایف جوانوں کو تعینات کیا گیا۔
وزیراعلیٰ کمارسوامی نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ منڈیا میں آزاد امیدوار سما لتا کے لئے آسانی فراہم کرنے کے مقصد سے مرکزی حکومت انکم ٹیکس محکمے کا غلط استعمال کرسکتی ہے۔ بعض حلقوں میں ان قیاس آرائیوں پر کہ منڈیا میں جے ڈی ایس کی طرف سے ووٹروں کولالچ دیا جاسکتا ہے اور رقم تقسیم بھی کی جاسکتی ہے۔ اسے بنیاد بناکر محکمۂ انکم ٹیکس نے اپنے چھاپوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ مخلوط حکومت میں طاقتور ترین وزیر سمجھے جانے والے وزیر برائے تعمیرات عامہ ایچ ڈی ریونا کے اقرباء کے آٹھ ٹھکانوں پر بھی انکم ٹیکس حکام نے چھاپے مارے۔ان میں کنٹراکٹر رائے گوڈا ، اشوتھ نارائن شٹی، محکمۂ تعمیرات عامہ کے اگزی کیٹیو انجینئر منجوناتھ کے ٹھکانوں پر بھی چھاپے مارے گئے۔ بتایاجاتا ہے کہ ان چھاپوں کے دوران ان کنٹراکٹروں کی طرف سے کئی برسوں سے انجام دئے گئے کنٹراکٹوں کی فائلیں اور دیگر دستاویزات ضبط کئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ جے ڈی ایس میں کلیدی کردار کے حامل رکن کونسل بی ایم فاروق کے گھر اور دفتر پر بیک وقت منگلور اور بنگلور میں چھاپے مارے گئے۔ اس کے ساتھ ہی چکمگلور اور شیموگہ میں بھی ان کی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔ سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا کے اقرباء میں شامل پرمیشور گوڈا کی ملکیت والے شرتی موٹرس کے دفاتر پر بھی انکم ٹیکس نے چھاپہ مارا۔ ایک طرف ریاست میں کانگریس اور جے ڈی ایس اتحاد نے ان چھاپوں کو مرکزی حکومت کی سیاسی بدنیتی اورانتخابات میں شکست کے خوف سے تعبیر کیاہے تو دوسری طرف محکمۂ انکم ٹیکس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی خود مختاری کا دعویٰ کیااور کہاکہ محکمہ غیر جانبدارانہ طور اپنی کارروائی کررہا ہے۔
یہ چھاپے محکمے کو معتبر اطلاعات ملنے پر مارے گئے ہیں اس کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد کار فرما نہیں ہے۔ انکم ٹیکس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے خفیہ شعبے کی طرف سے انہیں جو معلومات ملی ہیں اس بنیاد پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ جو بھی شواہد چھاپوں کے دوران برآمد ہوئے ہیں ان کا جائزہ لینے کے بعد انہیں واپس لوٹا دئے جائیں گے کسی کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔محکمۂ انکم ٹیکس نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ کمار سوامی سمیت دیگر قائدین اور جے ڈی ایس لیڈروں کے بیانوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ذمہ دار عہدوں پر رہنے والوں کو اشتعال انگیزی نہیں کرنی چاہئے، ان کے بیانوں سے تشدد کو ہوا مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ محکمے نے قانون کے دائرے میں اپنا کام کیا ہے، سیکورٹی کے لئے سی آر پی ایف طلب کی گئی تھی، اس کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں ہے۔